حکایت(2)
Anecdote
ایک شخص نے خواب دیکھا کہ اسے کسی نے تین بار کچھ کہا۔ جاگنے پر ڈر گیا اور مختلف معبروں کے پاس گیا۔ ایک نے کہا کہ وہ جلد مر جائے گا، دوسرے نے کہا کہ اپنے بچوں سے جدا ہوگا، تیسرے نے کہا کہ اسے جسمانی نقصان پہنچے گا، چوتھے نے کہا کہ اس کی نسل ختم ہو جائے گی، اور پانچویں نے کہا کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے گا۔ کچھ ہی عرصے بعد اس نے واقعی بیوی کو طلاق دے دی، بچوں کو لے کر سفر پر نکلا، اور دریا میں کشتی الٹنے سے ڈوب گیا۔ کنارے پر ایک مچھلی نے اس کا جسم نقصان پہنچایا، اور اس کا سارا مال اور اولاد ختم ہو گئی۔ اس طرح خواب کی تعبیریں بالکل ویسی ہی پوری ہوئیں جیسی بتائی گئی تھیں۔
امام کرمانیؒ کہتے ہیں کہ معبر کو قبرستان میں سچی تعبیر نہیں بتانی چاہیے، بلکہ ٹال دینا چاہیے — جیسے حضرت یوسف علیہ السلام نے جیل میں کہا تھا: قُضِيَ الْأَمْرُ الَّذِي فِيهِ تَسْتَفْتِيَانِ (جس بارے میں تم پوچھ رہے ہو، اس کا فیصلہ ہو چکا)۔
امام جعفر صادقؓ کے مطابق چار قسم کے لوگوں سے تعبیر نہ پوچھی جائے: بے دین، عورتیں، ناسمجھ، اور دشمن۔
