ڈاڑھی
Beard
ابن سیرینؒ کے مطابق ڈاڑھی مرد کی زینت اور گھرداری کی علامت ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے: سُبْحَانَ مَنْ زَیَّنَ الرِّجَالَ بِالِّحَی وَالنِّسَآءَ بِالذَّوَآئِبِ (پاک ہے وہ ذات جس نے مردوں کو ڈاڑھی اور عورتوں کو زلفوں سے سجایا)۔ ڈاڑھی لمبی ہونا گھریلو معاملات کی بہتری کی علامت ہے، مگر ناف سے آگے بڑھنا غم کی علامت ہے۔ ڈاڑھی سنوارنا اور خضاب لگانا بیوی کی بیماری کی علامت ہے۔ ڈاڑھی زمین پر گھسیٹنا موت کے قریب ہونے کی علامت ہے۔ سفید ڈاڑھی بردباری مگر غم کی علامت ہے۔
امام جابر مغربیؒ کے مطابق ڈاڑھی ناف سے نیچے تک پہنچنا مال میں کمی کی علامت ہے۔ ڈاڑھی ہاتھ سے جھڑنا مال ہاتھ سے جانے کی علامت ہے۔ چھوٹی ڈاڑھی قرض یا غم سے نجات کی علامت ہے۔ ڈاڑھی اکھڑنا اچانک عزت کھونے کی علامت ہے۔
حضرت اسماعیل اشعثؒ کے مطابق حج میں سر کے بال منڈوانا قرض اور غم سے نجات کی علامت ہے۔ سر اور ڈاڑھی دونوں یکدم منڈانا عزت میں کمی کی علامت ہے۔ عورت کا خود کو ڈاڑھی والا دیکھنا غم اور رسوائی کی علامت ہے۔
امام جعفر صادقؓ کے مطابق ڈاڑھی کی دس ممکنہ تعبیریں ہیں: خرید و فروخت، عزت، بلند مرتبہ، نیکی، موت، گھر، آرام، مال، اولاد، یا بزرگی، جیسا کہ قرآن میں ہے: وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْٓ اٰدَمَ (اور ہم نے اولادِ آدم کو عزت دی)۔ حاجیوں اور قیدیوں کے لیے ڈاڑھی منڈانا اچھی علامت ہے۔
