داغ لگانا
Branding / Marking
ابن سیرینؒ کے مطابق داغ لگانا مال اور خزانے کی علامت ہے۔ لوگوں کا داغ لگانا اسی مقدار میں مال اللہ کی راہ میں خرچ کرنے اور آخرت کے عذاب سے نجات کی علامت ہے۔
امام ابراہیم کرمانیؒ کے مطابق داغ سے خون یا پیپ نکلنا حکمران کے دربار سے وابستگی کی علامت ہے، جبکہ اس کے بغیر حکمران سے کوئی فائدہ نہ ملنے کی علامت ہے۔
حضرت دانیال علیہ السلام کے مطابق کسی کو داغ لگانا بری بات کی، اور پشت پر بیماری کے سبب داغ لگنا دین و دنیا کی اصلاح کی علامت ہے۔
امام جعفر صادقؓ کے مطابق داغ لگانا زکوٰۃ روکنے اور حکمران کے کام میں مصروفیت کی علامت ہے، جیسا کہ قرآن میں ہے: یَومَ یُحمٰی عَلَیهَا (جس دن اسے آگ میں تپایا جائے گا)۔
