گیارہویں فصل: وقت اور موسم کے مطابق خواب کی تعبیر
ابن سیرینؒ کے مطابق تعبیر وقت کے حساب سے بدل جاتی ہے — مثلاً ایک ہی خواب رات کو دیکھا جائے تو اس کا مطلب کچھ اور ہوتا ہے، دن کو دیکھا جائے تو کچھ اور۔
ایک مشہور واقعہ ہے: دو عورتوں نے ایک جیسا خواب دیکھا (چھت کا ستون گرنا)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کو بتایا کہ اس کا شوہر سفر سے واپس آئے گا، جبکہ حضرت ابوبکرؓ نے دوسری کو بتایا کہ اس کا شوہر انتقال کر جائے گا — دونوں تعبیریں الگ وقت پر پوچھے جانے کی وجہ سے مختلف تھیں۔
امام کرمانیؒ کے مطابق بہار میں دیکھا خواب دیر سے پورا ہوتا ہے، گرمی میں جلدی، اور خزاں کا خواب اکثر درست نہیں ہوتا۔ اس کی مثال: ایک شخص نے حضرت ابوبکرؓ سے پوچھا کہ اس نے درخت سے ستر پتے گرتے دیکھے۔ خزاں میں پوچھنے پر جواب ملا: ستر کوڑے پڑیں گے (اور ایسا ہی ہوا)۔ اگلے سال بہار میں وہی خواب دوبارہ آیا اور تعبیر دی گئی: ستر ہزار درہم ملیں گے — کیونکہ اس بار درخت خزاں میں نہیں بلکہ بہار میں تھے، جب پودے بڑھتے ہیں۔ ایسا ہی ہوا۔
حضرت دانیال علیہ السلام کے مطابق نصف شب سے صبح تک پوچھی گئی تعبیر اچھی ہوتی ہے، زوال کے بعد پوچھنا نامناسب ہے، اور ابر و بارش یا سورج طلوع و غروب کے وقت تعبیر پوچھنے سے گریز کرنا چاہیے۔ امام جابر مغربیؒ کے مطابق سب سے سچا خواب سحر کے وقت سے سورج نکلنے تک کا ہوتا ہے۔
