قبر
Grave
حضرت دانیال علیہ السلام کے مطابق قبر قید خانے کی علامت ہے۔ اپنے لیے قبر کھودنا حالات کے تنگ ہونے کی، بعض مفسرین کے نزدیک اپنا گھر بنانے کی علامت ہے۔ لوگوں کے لیے قبر کھودنا ان کے حالات میں مشکلات کی علامت ہے، جیسا کہ قرآن میں ہے: ثُمَّ اَمَاتَہٗ فَاَقْبَرَہٗ (پھر اسے موت دی اور قبر میں رکھا)۔ قبر میں رکھ کر سر پر مٹی ڈالنا دین کے نقصان اور بغیر توبہ کے دنیا سے جانے کی علامت ہے۔
ابن سیرینؒ کے مطابق قید خانے میں رکھا جانا قید ہونے کی علامت ہے۔ قید میں مرنا لمبی زندگی کی علامت ہے۔ قبر پر کھڑا ہونا گناہ پر قائم رہنے کی علامت ہے۔
امام ابراہیم کرمانیؒ کے مطابق قبر میں مردہ ہو کر منکر نکیر کے سوال کا سامنا کرنا حکمران کے مطالبے کی علامت ہے۔ درست جواب دینا حکمران کے مطالبے سے نبٹنے کی، اور غلط جواب عاجزی کی علامت ہے۔
