بال
Hair
حضرت دانیال علیہ السلام کے مطابق بال مردوں کے لیے زینت، اور عورتوں کے لیے (لمبے بال) غم کی علامت ہیں۔ چوپاؤں کے بال تھوڑے مال کی علامت ہیں۔ صوفی کے لمبے بال زینت کی، جبکہ عام شخص کے لیے غم کی علامت ہیں۔ بال کاٹنا غم دور ہونے کی علامت ہے۔
ابن سیرینؒ کے مطابق حرمت والے مہینوں (رجب، ذی الحج، ذی قعدہ، محرم) میں سر منڈوانا قرض ادا ہونے اور غم سے نجات کی علامت ہے۔ حکمران خاتون کا سر منڈوانا اپنے شوہر یا حاکم کی موت کی علامت ہے۔
امام ابراہیم کرمانیؒ کے مطابق حکمران کے لیے لمبے بال لشکر کی، اور عوام کے لیے غم کی علامت ہیں۔ بکھرے گنجے بال دین کے نقصان کی علامت ہیں۔ زلفیں (دو حصوں میں) رکھنا سرداری اور نیک نامی کی علامت ہے۔
امام جابر مغربیؒ کے مطابق بغل یا زیرِ ناف کے بال مونڈنا دین کی صلاح کی علامت ہے۔ سینے پر بال ہونا قرض کی علامت ہے۔
امام جعفر صادقؓ کے مطابق بال منڈوانے کی پانچ ممکنہ تعبیریں ہیں: حج، سفر، عزت و مرتبہ، امن، یا دولت، جیسا کہ قرآن میں ہے: مُحَلِّقِیْنَ رُءُوْسَکُمْ وَمُقَصِّرِیْنَ (اپنے سر منڈانے والے اور بال کترانے والے)۔
