علم تعبیر کا موجد
اگرچہ حقیقت میں ہر چیز کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، مگر عام طور پر کسی علم کا 'موجد' اسے کہا جاتا ہے جس نے سب سے پہلے وہ علم دنیا میں متعارف کرایا — جیسے منطق کے بانی ارسطو اور عروض کے بانی خلیل نحوی سمجھے جاتے ہیں۔ اسی طرح علمِ تعبیر کے بانی حضرت یوسف علیہ السلام ہیں، اگرچہ اصل میں یہ علم انہیں اللہ کی طرف سے عطا ہوا اور انہوں نے اسے دنیا میں رواج دیا۔ قرآن میں ارشاد ہے:
وَكَذَٰلِكَ يَجْتَبِيكَ رَبُّكَ وَيُعَلِّمُكَ مِنْ تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ
یعنی: "اے یوسف! اسی طرح تمہارا رب تمہیں چن لے گا اور تمہیں خوابوں کی تعبیر کا علم سکھائے گا۔"
حضرت یوسف علیہ السلام خود بھی اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ اللہ نے انہیں سلطنت کے ساتھ ساتھ خواب کی تعبیر کا علم بھی عطا فرمایا۔
