خدا تعالٰی کو دیکھنے کی تاویل
The Interpretation of Seeing Allah the Exalted
مصنف کہتے ہیں کہ ان کے استاد نے بھی اللہ، فرشتوں اور پیغمبروں کو خواب میں دیکھنے کی تعبیر اپنی کتاب کے شروع میں بیان کی تھی، اسی روایت کو یہاں جاری رکھا جا رہا ہے۔
حضرت دانیال علیہ السلام کے مطابق اگر کوئی مومن اللہ کو خواب میں کسی مثال یا شکل کے بغیر دیکھے، تو یہ اس کی حاجتیں پوری ہونے اور آخرت میں دیدار پانے کی علامت ہے۔ اگر خود کھڑا ہو اور اللہ اسے دیکھ رہا ہو، تو یہ نیک اعمال اور بخشش کی نشانی ہے۔
ابن سیرینؒ کے مطابق اگر خواب میں اللہ سے سرگوشی میں بات ہو تو یہ بلند مرتبے کی علامت ہے، جبکہ پردے کے پیچھے سے بات ہونا دین میں کسی کمی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اللہ کی طرف سے نصیحت ملنا اس کی رضا کی علامت ہے، جبکہ غصے کی نظر غم اور تکلیف کی نشانی ہے۔
امام کرمانیؒ کے مطابق اگر اللہ کوئی چیز عطا کرتا دکھائی دے تو یہ دنیا میں کسی آزمائش کی علامت ہے۔ اللہ کی شفقت بھری نظر جنت میں انعام کی نشانی ہے، مگر ساتھ ہی دنیا میں سخت بیماری کا اشارہ بھی ہو سکتا ہے (جس کا اجر ملے گا)۔ اگر خواب میں اللہ کسی مظلوم آبادی میں 'آتا' دکھائی دے، تو یہ وہاں انصاف اور راحت کی علامت ہے۔ اگر گھر میں آ کر شفقت کرے تو یہ رحمت کی نشانی ہے، اگرچہ ساتھ میں دنیاوی مشکل بھی آ سکتی ہے۔ اللہ کی طرف بلایا جانا موت کے قریب آنے کی علامت ہے۔
امام جابر مغربیؒ کے مطابق اگر اللہ کسی شہر یا بستی کو 'دیکھتا' دکھائی دے، تو یہ وہاں نیک لوگوں کی عزت اور ظالموں کے احتساب کی علامت ہے۔ اگر اللہ کسی جگہ سے ناراض دکھائی دے، تو یہ وہاں کے حاکموں کی ناانصافی یا لوگوں کی بےدینی کی نشانی ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے مطابق اللہ کو نیک صورت میں دیکھنا خوف سے تحفظ اور (مسلمان کے لیے) آخرت میں دیدار پانے کی علامت ہے۔
امام جعفر صادقؓ کے مطابق اللہ کو خواب میں دیکھنا سات ممکنہ معانی رکھتا ہے: بخشش، آزمائش سے تحفظ، دین میں روشنی اور مضبوطی، ظالموں پر فتح، عزت و شرف، ملک کی خوشحالی اور عادل حکمرانی، یا دنیا و آخرت میں بلند مقام — یہ سب اس صورت میں جب نظر شفقت کی ہو۔ اگر نظر ناراضگی کی ہو تو اس کے الٹ سمجھا جائے۔ قاضی، بادشاہ یا عالم کے لیے اللہ کی ناراضگی کا خواب ان کی اپنی کوتاہی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ابن سیرینؒ کے مطابق سب سے معتبر یہی ہے کہ اللہ کو بغیر کسی مثال کے دیکھا جائے۔
