علم تعبیر کی فضیلت احادیثِ نبویؐ سے
پہلی حدیث: خواب کی تعبیر کا علم حضرت یوسف علیہ السلام کا ایک علمی معجزہ تھا۔
دوسری حدیث: حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الرُّؤْيَا جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ (خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے)۔ چونکہ نبوت سب سے افضل چیز ہے، تو اس کا حصہ ہونے کے ناطے خواب بھی افضل ہے، اور جو علم کسی افضل چیز سے متعلق ہو وہ علم بھی افضل شمار ہوتا ہے۔
تیسری حدیث: حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے مطابق خواب بھی وحی کی ایک قسم ہے، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ اچھی یا بری خبر پہنچاتا ہے۔
چوتھی حدیث: حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو صحابہ نے پوچھا کہ آپ کے بعد ہمیں امور کی خبر کیسے ملے گی؟ آپ نے فرمایا کہ میری وفات کے بعد وحی رک جائے گی، مگر خوشخبریاں جاری رہیں گی۔ صحابہ نے پوچھا کہ خوشخبریوں سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ الَّتِي يَرَاهَا الْمَرْءُ الصَّالِحُ یعنی وہ نیک خواب جو نیک لوگوں کو آتے ہیں۔
پانچویں حدیث: حضرت ابوسعید خدریؓ کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا خواب آئے تو اللہ کا شکر ادا کرو اور اپنے نیک دوستوں کو بتاؤ، اور برا خواب آئے تو شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو اور کسی کو نہ بتاؤ۔
