نہروں کی وادی
Valley of Rivers
ابن سیرینؒ کے مطابق نہروں کی وادی میں جانا غم میں گرفتار ہونے کی، اور اس سے نکلنا غم سے نجات کی علامت ہے۔
امام ابراہیم کرمانیؒ کے مطابق نہروں کی وادی حج کی علامت ہے، جیسا کہ قرآن میں ہے: بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّمِ (تیرے عزت والے گھر کے پاس ایک بےکاشت وادی میں)۔
امام جابر مغربیؒ کے مطابق نہروں کی وادی شعر گوئی کی علامت ہے، جیسا کہ قرآن میں ہے: وَالشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُھُمُ الْغَاوٗنَ (اور شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ کرتے ہیں)۔
