گردن کاٹنا
Beheading
ابن سیرینؒ کے مطابق گردن کٹ کر سر جسم سے جدا ہونا — غلام کے لیے آزادی، بیمار کے لیے شفا، مقروض کے لیے قرض سے آزادی، خوفزدہ کے لیے امن، اور مسلمان کے لیے (اللہ کی پناہ) کفر کی علامت ہے۔ سر جسم سے مکمل جدا نہ ہونا اس کے برعکس ہے۔
امام ابراہیم کرمانیؒ کے مطابق معتدل شخص کا گردن کاٹنا آزادی اور مالداری کی، اور درویش کا کاٹنا نعمت اور دولت دور ہونے کی علامت ہے۔ خلاصہ یہ کہ درویش اور محنت کش کے لیے گردن کٹنا اچھی، جبکہ مالدار کے لیے بری علامت ہے۔
