آوازیں سننا
Hearing Voices
ابن سیرینؒ کے مطابق لوگوں یا جانوروں کی آوازیں سننا اس جگہ کے لیے غم کی علامت ہے۔ دور سے پکارنے پر جواب دینا موت کے قریب ہونے کی، جبکہ جواب نہ دینا بیماری کی علامت ہے۔ رونے کی آواز خوشی کی علامت ہے، جبکہ آہ و زاری خواہش پوری ہونے اور دشمن پر فتح کی علامت ہے۔
امام ابراہیم کرمانیؒ کے مطابق گھوڑے کی آواز خوشخبری کی علامت ہے، جبکہ گدھے کی آواز جھگڑے اور بےعزتی کی علامت ہے، جیسا کہ قرآن میں ہے: إِنَّ أَنكَرَ الْأَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيرِ (سب سے بری آواز گدھے کی آواز ہے)۔ اونٹ کی آواز حج یا نفع بخش تجارت کی علامت ہے۔ بکری کی آواز کسی بزرگ سے فائدے کی، اور بکری کے بچے کی آواز خوشی کی علامت ہے۔
شیر کی دھاڑ حکمران سے خوف کی، چیتے کی آواز جھگڑے کی، بھیڑیے کی آواز دشمن پر فتح کی، اور لومڑی کی آواز کسی دھوکے باز سے واسطہ پڑنے کی علامت ہے۔ بلی کی آواز چور کے خوف کی، مرغی کی آواز اچھی خبر کی، اور کوے کی آواز حرام خور شخص کی خبر کی علامت ہے۔ چڑیا کی آواز خوشخبری کی، اور بلبل کا نغمہ گانے یا نوحے کی خبر کی علامت ہے۔
