مینار
Minaret
ابن سیرینؒ کے مطابق مینار ایسے شخص کی علامت ہے جو لوگوں کو دین کی راہ کی طرف بلاتا ہے۔ مینار بنانا نیک کام اور مسلمانوں کو جمع کرنے کی علامت ہے۔ مینار گرانا مسلمانوں کے متحد ہونے کی، یا بعض کے نزدیک مؤذن کی وفات کی علامت ہے۔
امام ابراہیم کرمانیؒ کے مطابق مینار میں بادشاہ یا بڑا آدمی ہونا شاہی سردار بننے کی علامت ہے۔ کچی اینٹ کا مینار عام آدمی سردار بننے کی، اور پتھر چونے کا مینار کمینے سردار کی علامت ہے۔ مسجد کے دروازے پر مینار عالم فاضل سردار کی علامت ہے۔ مینار گرنا کسی دین کے بزرگ کی موت کی علامت ہے۔ سونے چاندی کی چوٹی والا مینار بادشاہ کی علامت ہے، مگر بعض کے نزدیک جھوٹے بےوفا بادشاہ کی علامت بھی۔
امام جابر مغربیؒ کے مطابق مینار سے اذان دینا حکمران کے نیک وعدے کی، جامع مسجد کے مینار سے اذان دینا حج و عمرہ کرنے کی، اور مینار کا حرکت کرنا حکمران کی بیماری کی علامت ہے۔
امام جعفر صادقؓ کے مطابق مینار کی چار ممکنہ تعبیریں ہیں: بادشاہ، بڑا آدمی، امام، یا مؤذن۔
